حکیم اجمل خان کی تحقیق

Hakim-ajmal-khan-research

Hakeem Ajmal Khan Medicine Research Project:

Hakim Ajmal Khan undertook very systematic research on both individual and compound medicines, to extract the Greek medicinal treasury from the subcontinent with the help of modern research and equipment. Also to highlight its importance and usefulness for which he selected Dr. Saleem Al-Zaman Siddiqui.

Hakim Ajmal Khan gave Dr. Saleem Al-Zaman Siddiqui a Greek medicine known as Asrol or sandalwood herb “Rauwolfia Serpentina”, and ordered that detailed research be done on it, on which Dr. Siddiqui worked tirelessly for many years.

Asrol was an excellent medicine used for a long time for hypertension treatment. After many years of research, he added a new chapter in medicine and came up with the Serpasil as the best anti-hypertensive drug.

This work could not be completed in the life of Hakim Ajmal Khan, however, in his research presented by Saleem Al-Zaman Siddiqui in 1932, he found alkaloids and as a tribute to the esteemed personality of Hakim Ajmal Khan, those were named after Hakim Ajmal Khan. These include Ajmalin, Ajmalinin, New Ajmalin, Ive Ajmalin, Ajmalisin, etc.

This is a great work of the medical world which expresses a minor aspect of Hakim Ajmal’s genius personality. Hakim Ajmal Khan was a physician. His ancestors were physicians. He learned the art of medical treatment in the same way as a fish learns to swim in the water.

Hakim Ajmal Khan was not content with just what he inherited; he developed this art in every aspect and took it to new heights.

In his time, medical education was limited to individuals and families. Therefore, there was no tradition of regular colleges and madrassas. In the primordial education system, medicine was taught along with other sciences.

Family and traditional medical clinics were the only treatment centers for patients. This was the time when the practice of modern medical science was started, which had the full patronage of the British.

The British were destroying India’s artistic and cultural heritage under one policy. They disliked the indigenous medicinal system and called it unscientific.

As a result, a law was passed under the Presidency of Bombay banning the country’s indigenous physicians. Hakim Sahib became fidgety and brought together the vaids and physicians of the whole country on one platform and started a struggle against this law.

Hakim Sahib’s first confrontation with British imperialism was for the protection of the indigenous medicinal system. He founded the Ayurvedic and Greek Medicinal Conference in 1910.

In the end, Hakim Sahib succeeded. He began the work of standardizing the teaching of Ayurveda and Greek medicine in the light of modern medical science.

He visited Europe and observed their medical education and hospitals closely and compiled a regular curriculum for medical education.

                                                                                                                                              ادویات پر ریسرچ و تحقیق کا منصوبہ

حکیم اجمل خان نے ادویہ مفردہ و مرکّبہ دونوں پر ہی بہت منصوبہ بند طریقے سے ریسرچ و تحقیق کرانے کا آغاز کیا جس کی غرض یہ تھی کہ یونانی ادویاتی خزانہ کو جدید تحقیقات اور آلات و وَ سائل کی مدد سے برِّصغیر سے نکال کر اہلِ مغرب کو بھی اِس کی اہمیت و افادیت سے روشناس کرایا جا سکے جس کے لئے اُنہوں نے ڈاکٹر سلیم الزَّماں صدیقی کو منتخب کیا۔

حکیم اجمل خان نے ڈاکٹر سلیم الزَّماں صدیقی کو ایک یونانی دوا جو اسرول یا چندن بوٹی Rauwolfia serpentinaکے نام سے مشہور ہے، دی اور فرمائش کی کہ اِس پر تفصیل سے تحقیقی کام کیا جائے، جس پر ڈاکٹر صدیقی نے کئی سالوں تک انتھک محنت و لگن کے ساتھ کام کیا، اسرول ایک عمدہ اور مجرَّب دوا تھی جو فشار الدم کے لئے عرصہ سے مستعمل تھی، کئی برسوں کی ریسرچ و تحقیق کے بعد اُنہوں نے طِب میں ایک نئے باب کا اِضافہ کیا اور بہترین دافع فشار الدمDrug Anti hypertensiveکے طور پر serpasilمنصّۂ شہود پر آئی۔ حکیم صاحب کی زندگی میں یہ کام پایۂ تکمیل تک تو نہ پہنچ سکا البتہ ۱۹۳۲میں سلیم الزَّماں صدیقی نے اپنی جو تحقیقات پیش کیں اُن میں الکلائڈز (Alkaloids) معلوم کئے اور حکیم صاحب کی ذاتِ گرامی کو خِراجِ عقیدت پیش کرنے کے طور پر اُن کو حکیم صاحب کے نام سے منسوب کیا۔ اُن میں اجملین،اجملینین، نیو اجملین، آئیواجملین، اجملیسین وغیرہ شامل ہیں۔ دنیائے طِب کا یہ ایک عظیم کار نامہ ہے جو حکیم صاحب کی عبقری شخصیت کے ایک معمولی پہلو کی ترجمانی کرتا ہے۔

حکیم اجمل خان بنیادی طور پر ایک طبیب تھے۔ اُن کے آباء و اجداد طبیب تھے۔ اُنہوں نے فنِّ طِب اِس طرح سیکھا جس طرح مچھلی پیدا ہوتے ہی پانی میں تیرنا سیکھتی ہے۔ حکیم اجمل خان نے صرف اِسی پر اکتفا نہیں کیا جو اُنہیں وِرثہ میں ملا تھا، اُنہوں نے اِس فن کو ہر پہلو سے ترقی دے کر آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ اُن کے عہد میں طِبِّی تعلیم افراد اور خاندانوں تک محدود تھی۔ اِس لئے باقاعدہ کالجوں اور مدرسوں کا رِواج نہ تھا۔ قدیم نظامِ تعلیم میں دیگر علوم کے ساتھ طِب بھی پڑھائی جاتی تھی۔ خاندانی اور رِوایتی طبیبوں کے مطب مریضوں کے علاج کے مرکز ہوتے تھے۔ یہ زمانہ تھا جب جدید میڈیکل سائنس کا رِواج شروع ہو رہا تھا جسے انگریزوں کی بھرپور سرپرستی حاصل تھی۔ انگریز ایک پالیسی کے تحت ہندوستان کے فنِّی اور تہذیبی ورثوں کو مٹاتے جا رہے تھے۔ وہ دیسی طِبّوں کو پسند نہیں کرتے تھے اور اُنہیں غیر سائنٹِفِک طریقے قرار دیتے تھے۔ چنانچہ بمبئی پر یزیڈینسی میں ایک قانون پاس ہوا جس کے ذریعہ ملک کے دیسی معالجین پر پابندی لگا دی گئی۔ حکیم صاحب بے قرار ہو اُٹھے۔ اُنہوں نے تمام ملک کے ویدوں اور طبیبوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا اور اِس قانون کے خلاف جدو جہد شروع کی۔ برطانوی سامراج سے حکیم صاحب کا پہلا براہِ راست ٹکراؤ دیسی طِبّوں کے تحفُّظ کے لئے ہوا۔ اُنہوں نے ۱۹۱۰؁ء میں آیورویدک اینڈ یونانی طِبِّی کانفرنس کی بنیاد ڈالی۔ بالآخر حکیم صاحب کو کامیابی ملی۔ اُنہوں نے آیوروید اور یونانی طِب کی تعلیم کی جدید میڈیکل سائنس کے پیشِ نظر معیار بندی کا کام شروع کیا مدرسہ طِبِّیہ تو بہت پہلے قائم ہو چکا تھا لیکن اِسے باقاعدہ کالج بنانے کا عمل اب شروع ہوا۔حکیم صاحب نے طِبِّی تعلیم کے لئے باقاعدہ نصاب مرتب کرائے۔یورپ کا دورہ کر کے وہاں کی میڈیکل ایجوکیشن اور اسپتالوں کا قریب سے جائزہ لیا۔

web team

Top